
COLLECTION

COLLECTION
نظم
میں ازل سے ہوں تیرے نور کا
میں حباب ہوں تیرے ظہور کا
میں صدا ہوں تیری حضور کا
میں کلام ہوں تیری سرور کا
میں نشان ہوں تیری راہ کا
میں سوال ہوں تیری نگاہ کا
میں نفس ہوں تیری طہارت کا
میں عکس ہوں تیری عبادت کا
میں سفر ہوں تیری وصال کا
میں اثر ہوں تیری خیال کا
میں فقیری ہوں تیرے در کا
میں فقیر ہوں تیری نظر کا
میں عطا ہوں تیری جود کا
میں وفا ہوں تیری عہد و عود کا
اعجاز ہوں، میں فقیر ہوں عشق کا**
1
2 Voices
hot
Loading...